پاکستان

سپریم کورٹ نے 5 سال بعد سعد رفیق کے حق میں فیصلہ سنا دیا

لاہور: سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سعد رفیق کے خلاف این اے 125 میں مبینہ دھاندلی اور دوبارہ انتخابات کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے 5 سال وفاقی حکومت میں رہنے والے (ن) لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔  2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے لیگی رہنما سعد رفیق نے پی ٹی آئی کے حامد خان کو شکست دی تھی، تاہم حامد خان نے شکست تسلیم نہ کرتے ہوئے انتخابی نتائج الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیے تھے،  الیکشن ٹربیونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے 2015 میں حامد خان کی انتخابی عذرداری پر این اے 125 کے انتخابی نتائج کالعدم قرار دے کر ضمنی انتخاب کا حکم دیا تھا، عذر داری میں الزام لگایا گیا کہ این اے 125 میں دھاندلی اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی اس لیے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دیا.

سعدرفیق نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور الیکشن ٹربیونل کے جج جاوید رشید کے فیصلے کو چیلنج کیا اور اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی ، سابق وزیر ریلوے کی اپیل پر اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بنچ نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے  پر عمل درآمد روک دیا تھا.

سپریم کورٹ نے خواجہ سعد کی اپیل پر رواں ماہ  19 مارچ کو کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا. آج سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا، عدالت نے سعد رفیق کی اپیل منظور کرتے ہوئے حلقہ این اے 125 میں  دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close