پاکستانسیاست

اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کیلئے ووٹنگ جاری

اسلام آباد: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری ہے۔

خفیہ رائے شماری کے ذریعے پہلے مرحلے میں اسپیکر کا انتخاب کیا جارہا ہے۔

اسپیکر کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار اسد قیصر اور اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سید خورشید شاہ—۔فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسد قیصر جبکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سید خورشید شاہ کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

موجودہ اسپیکر ایاز صادق نئے اسپیکر کے انتخاب تک اجلاس کی صدارت کریں گے، جس کے بعد نومنتخب اسپیکر، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کروائیں گے۔

موجودہ اسپیکر ایاز صادق نئے اسپیکر کے انتخاب تک اجلاس کی صدارت کریں گے—۔اسکرین گریب

پی ٹی آئی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے لیے قاسم سوری اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے سعد محمود کو نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اراکین اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔

اجلاس کے آغاز پر 5 منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا، جو کسی وجہ سے 13 اگست کو حلف نہیں اٹھاسکے تھے۔

اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا طریقہ کار

اسپیکر اسمبلی کے انتخاب کی غرض سے ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اراکین کو حروف تہجی کے مطابق باری باری ان کے نام سے بلایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بلایا گیا، تاہم وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب ووٹ ڈالنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس پر پولنگ ایجنٹس کی رضامندی سے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

دوسری جانب عمران خان نے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اسپیکر سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔

اسپیکر کے انتخاب کے لیے 2 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

ایک پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی سےغلام مصطفیٰ شاہ اور تحریک انصاف کے عمران خٹک پولنگ ایجنٹ ہیں جبکہ دوسرے پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور تحریک انصاف کےعمر ایوب پولنگ ایجنٹ ہیں۔

اس سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے اراکین کو بیلٹ باکس دکھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ‘اس میں ہاتھ لگا کر دیکھیں،کہیں کچھ پہلے سے تو نہیں’۔

ووٹنگ سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے اراکین کو بیلٹ باکس دکھانے کی ہدایت کی—۔اسکرین گریب

پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘بیلٹ باکس پر پین کے بجائے مہر کا استعمال کیا جائے’۔

جس پر اسپیکر نے کہا کہ ‘میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں،مہر اور پیڈ فراہم کیےجائیں گے’۔

ووٹنگ کے موقع پر کسی بھی رکن کو موبائل سے ووٹ کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے۔

جب تمام ووٹرز ووٹ ڈال دیں گے تو اسپیکر ووٹنگ ختم ہونے کا اعلان کریں گے اور امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوگی۔

جس کے بعد اسپیکر ایاز صادق نتیجے کا اعلان کریں گے اور کامیاب امیدوار سے حلف لیں گے۔

نو منتخب اسپیکر اسی طریقہ کار کے تحت ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کروائے گا۔

وزیراعظم کا انتخاب

خیال رہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آئے گا۔

اس سلسلے میں کاغذات نامزدگی 16 اگست دن 2 بجے تک جمع ہوں گے جس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب اگلے روز 17 اگست کو ہوگا۔

عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف وزیراعظم کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تاریخ 18 اگست مقرر کی گئی ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close