پاکستان

ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ کا دورہ پاکستان مکمل

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایشیا پیسیفک گروپ کے 4 رکنی وفد نے دورہ پاکستان مکمل کر لیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے وفد میں شامل نمائندوں کا تعلق امریکہ، چین اور ترکی سے تھا۔

چار رکنی وفد نے دورے میں ایف اے ٹی ایف کے 12 نکات پرعمل درآمد کا جائزہ لیا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے وفد نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اکتوبر کے وسط تک دیے گئے 12 نکات پر عمل درآمد کرے۔

اکتوبر کے وسط تک ایف اے ٹی ایف کا 10 رکنی وفد دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وفد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالنے سے متعلق حتمی رپورٹ مرتب کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف وفد پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو تادیبی اقدامات کرنے کے لیے 3 ماہ (جون تک) کا وقت دیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے 25 اپریل کو ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں 27 صفحات پر مشتمل اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسگ اقدامات پر رپورٹ پیش کی تھی تاہم 22 مئی کو بنکاک کے غیر رسمی اجلاس میں اس رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا گیا تھا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close