پاکستانسیاست

اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق

اسلام آباد: حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے صدارتی الیکشن میں مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق کرلیا۔

کشمیرپوائنٹ مری میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ہوئی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔

مشترکہ صدارتی امیدوار

کانفرنس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اے پی سی میں شریک تمام جماعتوں بشمول پی پی پی نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر اتفاق کرلیا ہے، پیپلزپارٹی کے وفد نے اپنی قیادت کو اعتماد میں لینے اور حتمی فیصلے کیلئے رات تک کا وقت لیا ہے، شہباز شریف کی جانب سے کل مشترکہ امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

اپوزیشن رہنماؤں کو دھمکیاں

احسن اقبال نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں، انہیں جان و مال کے خطرات لاحق ہیں، اے این پی کے افتخار حسین کو بھی سنگین دھمکیاں دی گئی ہیں، اے این پی، جے یو آئی ، پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے اپنے قائدین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے، اے پی سی میں اس کی شدید مذمت کی گئی، ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

پی ٹی آئی انتقامی حکومت ہے

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مقدمات اور انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی گئی، نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو قانونی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے، نوازشریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت انتقامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

وزیرستان فائرنگ

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کی مذمت کی جس میں دو افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، اپوزیشن مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی آزادنہ تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ نظام پر تحفظات

رہنما ن لیگ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کے نظام پر تحفظات ہیں، اے پی سی نے سمندر پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حق کی حمایت کی ہے، تاہم جس عجلت میں الیکشن کمیشن اوورسیز ووٹنگ کے نظام کو متعارف کرا رہا ہے، اس پر سنگین تحفظات ہیں، آئی ٹی ماہرین نے اس نظام کے ہیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، اس آن لائن نظام کی سیکورٹی پر سنگین سوالات ہیں، ناقص آن لائن نظام نافذ کرنے سے ضمنی الیکشن کے عمل پر شدید سنگین سوالات اٹھیں گے۔

اے پی سی میں مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، احسن اقبال جبکہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ شامل ہیں، اے این پی کے غلام احمد بلوراور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کے علاوہ پاک سرزمین پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے رہنما بھی اے پی سی میں شریک ہیں۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے تاہم ٹیلی فونک رابطوں میں انہوں نے اے پی سی کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے موقف سے آگاہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ 4 ستمبر کو سینیٹ اور قومی  و صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ ہوگی۔ جس کے لئے پاکستان تحریک انصاف نے عارف علوی جب کہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close