پاکستانسیاست

شراب، منشیات برآمد ہونےکے بعد شرجیل میمن سینٹرل جیل منتقل، اسپتال کا کمرہ سیل کردیا

کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے کلفٹن میں واقع ضیاء الدین اسپتال میں زیرعلاج پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے پر چھاپے کے دوران وہاں سے شراب کی بوتلیں، سگریٹس اور منشیات برآمد ہونے کے بعد سابق صوبائی وزیر کو سینٹرل جیل منتقل کرکے نجی اسپتال میں ان کا کمرہ سیل کردیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری آمد سے قبل آج کراچی کے تین اسپتالوں میں اچانک دورہ کرکے سیاسی قیدیوں کے علاج کے بہانے قائم کیے گئے وی وی آئی پی وارڈز کا معائنہ کیا۔

چیف جسٹس سب سے پہلے کلفٹن کے نجی اسپتال کی پہلی منزل پر سب جیل قرار دیئے گئے سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے پرتعیش کمرے میں گئے، تاہم ذرائع کے مطابق وہاں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق چیف جسٹس شرجیل انعام میمن کے کمرے میں 3 منٹ تک رہے اور پیپلز پارٹی رہنما کے علاج اور بیماری کے حوالے سے سوالات کیے۔

ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں، سگریٹس اور منشیات برآمد ہوئیں، جنہیں ان کے سٹاف نے قبضے میں لے کر گاڑی میں منتقل کردیا۔

اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار خفیہ طور پر کراچی کے جناح اسپتال کے شعبہ کارڈیو ویسکولر پہنچے، جہاں انہوں نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کے فرنٹ مین انور مجید کے کمرے اور ان کے علاج اور بیماریوں کا جائزہ لیا اور کچھ ریکارڈ بھی قبضے میں لیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار جناح اسپتال کے خصوصی وارڈ بھی گئے جہاں انہوں نے انور مجید کے بیٹے غنی مجید کے لیے مخصوص وارڈ کا معائنہ کیا۔

تاہم غنی مجید کے کمرے میں موجود نہ ہونے پر استفسار کیا تو چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ ملزم کو ایم آر آئی کرانے کے لیے لے جایا گیا ہے۔

اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے وہاں موجود مختلف لوگوں سے بات چیت بھی کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر سیمی جمالی بھی جسٹس ثاقب نثار کے ہمراہ تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close