پاکستان

کرپشن پر قابو پانے کیلئے احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ کرپشن پر قابو پانے کے لیے ہمیں احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی اور پھر بیگم کلثوم نواز کے ایثال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف آرمی اسٹاف اور غیر ملکی سفراء سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

صدر پاکستان عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی

پیپلز پارٹی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے واک آؤٹ کیا۔

اسیپکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے اپوزیشن کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی گئی تاہم اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

قومیں مشکلات سے گھبرایا نہیں کرتیں ان کا مقابلہ کرتی ہیں، صدر عارف علوی

صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس عہدے کے لیے منتخب کیا، امید ہے کہ ساتھی اراکین میرا بھرپور ساتھ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کی سب سے بڑی وجہ گروہی مفادات اور بے انتہا کرپشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام مختلف وجوہات کے باعث عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ کرپشن پر قابو پانے کے لیے احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے نیا پاکستان بنانے کا عزم کیا ہے، نئے پاکستان کی سب سے بڑی شناخت سادگی کا فروغ اور بدعنوانی سے پاک نظام ہے، ہمیں اپنی زندگیوں میں سادگی کو اپنانا ہو گا۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ قومیں مشکلات سے گھبرایا نہیں کرتیں ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وقت اور تمام جماعتوں کے لیڈران سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی سمت کو درست کریں، توقع ہے کہ حکومت ہر شعبے میں واضح روڈ میپ مرتب کرے گی اور شفاف نظام حکومت بنائے گی۔

’پانی اور بجلی کے مسائل پر قابو پانے کیلئے ہمیں شجر کاری پر خصوصی توجہ دینا ہو گی اور نئے ڈیم بھی بنانا ہوں گے‘

صدر مملکت نے کہا کہ قومیں مسائل سے دوچار ہو جایا کرتی ہیں اور بعض اوقات یہ مسائل اس قدر سنگین ہو جاتے ہیں کہ ترجیحات کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھی ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہے لیکن زندہ اور باہمت قومیں گھبرایا نہیں کرتیں بلکہ دلیری سے ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔

عارف علوی نے کہا کہ ہمارے ہاں پانی کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، ہمیں پانی کو ضائع ہونے سے روکنے پر توجہ دینا ہو گی اور پانی کے بے جا استعمال پر قابو پانا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شجر کاری پر خصوصی توجہ دینا ہو گی اور نئے ڈیم بھی بنانا ہوں گے، حکومت کو پانی اور اس سے متعلقہ مسائل سمیت بجلی کے مسائل پر بھی توجہ دینا ہو گی۔

صدر مملکت نے کہا کہ توقع کرتا ہوں ڈیم پر ہمارے لوگ چیف جسٹس اور وزیراعظم کی اپیل پر مثبت جواب دیں گے۔

اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ خطرناک حد تک زیادہ ہو چکے ہیں، صدر مملکت

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم ایک مقروض قوم ہیں اور ہمیں اپنے قرض ادا کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر اندرونی اور بیرونی قرضوں کے پہاڑ خطرناک حد تک زیادہ ہو چکے ہیں جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ زراعت ہماری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملک کی نصف آبادی زراعت سے وابستہ ہے اور زرعی شعبے کی ترقی بھی آبی ذخائر میں اضافے سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے معاملات میں بھی عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے لیکن آبادی کا دباؤ بہت زیادہ اور وسائل محدود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک میں آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنا ہو گا اور ملک میں تعداد کے بجائے معیار تعلیم کو عام کرنا ہو گا۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پالیسیاں وضع کی جائیں، صدر مملکت

خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک پالیسیاں وضع کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، ہماری خواتین بہت محنتی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 30 لاکھ بچے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے طلبا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے جدید نصاب تعلیم کو دینی نصاب تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بچے بھی تعلیم حاصل کر کے عملی زندگی میں مثبت اور جاندار کردار ادا کر سکیں۔

کرپشن کے ناسور نے ملکی اقتصادیات کو تباہ کر دیا ہے، صدر عارف علوی

ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز میں سے سب سے بڑا چیلنج معیشت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے ناسور نے ملکی اقتصادیات کو تباہ کر دیا ہے، صنعتیں بند اور بے روزگاری عروج پر ہے، ہمارے برآمدات اور درآمدات میں توازن نہیں ہے اور ملکی معیشت پر گردشی قرضوں کا بوجھ 1100 ارب روپے سے زیادہ کا ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے افراط زر میں اضافہ ہوا جس کا براہ راست اثر تنخواہ دار طبقے پر بڑا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ سمجھتا ہوں کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں لانا اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔

’دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پایا جا چکا، انتہا پسندی کے اثرات بھی سمٹ رہے ہیں‘

دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی استقامت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں سے دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پایا جا چکا ہے اور انتہا پسندی کے اثرات بھی سمٹ رہے ہیں۔

صدر عارف علوی نے افواج پاکستان کو دہشت گردی پر قابو پانے کا سہرا دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دنیا میں سب سے کامیاب اور تجربہ کار ہماری فوج ہے۔ دنیا کو ہم سے سیکھنا چاہیے۔

حکومت پاک چین اقتصادی راہدای منصوبے کی بھرپور حمایت کرتی ہے، صدر مملکت

اقوام عالم کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی خارجہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ چین، امریکا، ترکی اور ایران کے وزارائے خارجہ اور سعودی عرب کے وزیر اطلاعات کا حالیہ دورہ پاکستان اور ہمارے وزیر خارجہ کے دورہ افغانستان سے ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اقوام عالم سمیت اسلامی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے ہیں۔

پاک چین دوستی پر بات کرتے ہوئے صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ لاکھ امتحانوں کے باجود پاک چین تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پاک چین اقتصادی داہداری منصوبے کی بھرپور حمایت کرتی ہے، اس منصوبے سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ توقع ہے کہ حکومت سی پیک کے منصوبے تیزی سے مکمل کرے گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

افغانستان کے ساتھ تلعقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے، ہمسایہ ملک میں دیرپا امن سے پاکستان اور خطے کے لیے تجارت کی نئی رائیں کھلیں گی۔

پاکستان مسئلہ کمشیر کے حل کے لیے ہر سطح پر کاوشیں جاری رکھے گا، صدر مملکت

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہر مثبت قدم کا خوش دلی سے خیر مقدم کریں گے۔

صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ کمشیر کے تنازع کا حل دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات کے لیے لازم ہے، تصادم اور الزامات کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اور حکومت مقبوضہ کشمیر کی عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے اور پاکستان مسئلہ کمشیر کے حل کے لیے ہر سطح پر کاوشیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھنا قابل مذمت ہے، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کو کشمیر میں ہونے والی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات کے باعث حکومت سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی اسمبلی اجلاس آئندہ ہفتے بلانے کی درخواست کی تھی، جس پر حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور قومی و سینیٹ کا اجلاس ری شیڈول کیا تھا۔

یاد رہے کہ کینسر کے مرض میں مبتلا بیگم کلثوم نواز 11 ستمبر کو لندن میں انتقال کر گئی تھیں جن کی نماز جنازہ اور تدفین جمعہ 14 ستمبر کو لاہور میں کی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close