پاکستان

زلفی بخاری کے ساتھ نیب کا دوستانہ اور وزیراعظم کا یارانہ

زلفی بخاری کے ساتھ نیب کا دوستانہ اور وزیراعظم کا یارانہ

گزشتہ نو ماہ سے عمران خان کے دوست اور اسپشیل اسسٹنٹ برائے بیرون ممالک پاکستانی ذوالفقار بخاری اپنی لندن کی جائیدا د۔ اور آف شور کمپنیز کی منی ٹرائل نیب میں پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔
اور اب تک نیب جو کہ اپوزیشن لیڈر کو ایک زیر تفتیش کیس میں گرفتار کر چکا ہے مگر ذوالفقار بخاری کو آف شور کیس میں ہاتھ بھی نہیں لگا سکا جس کے بارے میں وزیراعظم برملا اظہار کر چکے ہیں کہ میرا دوست ہے
تمام شواہد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ذوالفقار بخاری اپنے باپ اور چچا کی ناجائز دولت پر آج راج کر رہے ہیں جو دولت پاکستان میں سنگین جرائم کمائی گئی تھی حتی کہ انسانوں کی سمگلنگ جیسے گھٹیا دھندے سے بھی ۔
انسانی سمگلنگ کا کیس اس وقت دنیا کی نظر میں پہلی بار آیا جب علی مرتضی نامی کمپنی نے کچھ لوگوں کو لیبیا بھیجا ۔جہاں ان کی پر اسرار موت واقع ہو گئی یاد رہے علی مرتضی کمپنی واجد بخاری (والد ذوالفقار بخاری ) کی تھی ۔
ذوالفقار بخاری کے والد سید واجد حسین بخاری اور اس کے سگے چچا سید منظور حسین بخاری کو انسانی سمگلنگ کے کیس میں 14 سال قید کی سزا ہوئی اور ان کی جائیداد ، ضبط کرنے کا حکم دے دیا گیا ایف آئی آر نمبر
161/82 dated 3/11/1982 under sections 420, 468,471, 277 MLO, FIA Passport Cell Rawalpindi.
بخاری خاندان کے بارے میں کیس میں اس وقت مزید سنسنی خیز انکشافات بھی ہوئے جس کے نتیجے میں کورٹ نے ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم صادر کر فرمایا اور مختلف سزائیں شامل کیں۔
ملٹری کورٹ نمبر 32 آٹھ اگست 1984
اخبار کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ جب واجد بخاری کے خلاف انسانی سمگلنگ کا کیس جاری تھا تو خاندان نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے پیسے لندن ٹرانسفر کئے اور وہاں 1984-1981 کے دوران مختلف جائیدایں بنائیں ۔ جوکہ تمام پیسہ غیر قانونی ٹرانسفر کیا گیا-اور پاکستانیوں سے لوٹ مار سے حاصل کیا گیا تھا ۔
یوکے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق واجد بخاری نے لندن میں معصومہ انویسٹمنٹ اور سکینہ انویسٹمنٹ کے نامی 1984-1983-1981 میں کمپنیاں بنائی اور ان کے نام لندن میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدیں ۔ عین اسی وقت جب واجد بخاری کے خلاف پاکستان میں انسانی سمگلنگ کا کیس چل رہا تھا ۔
2016 ذوالفقار بخاری اور اس کی بہن معصومہ بخاری اور سکینہ بخاری کا نام پہلی بار پانامہ پیپرز میں سامنے آیا جس کے مطابق ان کی مالکیت میں ( کے۔ فیکٹرلمیٹڈ ) ، ( بریڈبری ریسورس لمیٹڈ ) ، (بیتک لمیٹڈ) تھیں ۔
NAB’s first notice No: NAB2018011811018/Inq/IW-2 to Zulfiqar Bukhari
نیب نے 20 فروری 2016 کو ذوالفقار بخاری کو نیب ایکٹ 1999 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کا نام پانامہ پیپر میں بے نامی جائیداد کے حوالے سے آیا ہے اور آپ برٹش ورجن آئی لینڈ میں کچھ جائیداد کے مالک پائے گئے ہیں جس کے لئے نیب ایک انکوائری کمیٹی بنا رہا ہے جس کے سامنے حاضر ہو کر آپ کو جواب دینا ہو گا ۔
واجد بخاری کو بھی نیب راولپنڈی نے انکوائری کے لئے بلایا اور لندن اور پاکستان میں کاروبار کے بارے میں منی ٹرائل کے حوالے سے سوالات پوچھے جس میں دونوں باپ بیٹا ابھی تک جواب دینے میں ناکام رہے ۔
نیب راولپنڈی کے مطابق باوجود اس کے کہ ذوالفقار بخاری اور واجد بخاری اپنی منی ٹرائل پیش کرنے میں ناکام رہے مگر ان کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا ۔ جیسے کہ چیرمین نیب کی ہدایت پر دیگر مختلف مقدمات میں ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔
نیب کے چیرمین جسٹس (ر ) جاوید اقبال نے ادارے کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے یہ ترامیم کیں تھیں کہ نیب دس ماہ کے اندر اندر ریفرنس دائر کرنے کا پابندہو گا اور کیس احتساب عدالت کو منتقل کیا جائے گا مگر وزیراعظم کے دوست کو خصوصی سہولت فراہم کی جا رہی ہیں ۔ جو کہ سوالیہ نشان ہیں ؟
نیب راولپنڈی کے ذرائع نے بتایا کہ ذوالفقار بخاری کے والد نے پاکستان کی کچھ طاقت ور شخصیات کے ساتھ وزیراعظم ہاوس ۔ نیب میں اور راولپنڈی میں ملاقاتیں کی ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے بیٹے کو کسی صورت گرفتار نا کیا جائے ۔
نیب کے تحقیقاتی افسر عرفان منگی جو کہ نواز شریف اور ان کے خاند ان کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں بھی رہے اور بڑا نام کمایا وزیراعظم کے دوست کے کیس میں کافی لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
وزیر اعظم کے خصوصی اسسٹنٹ / وزیر اعظم کے دوست ذوالفقار بخاری کے معاملے میں، نیب راولپنڈی نے ناصرف سستی دکھائی فائلوں کو پیچھے دھکیلا بلکے تحریک انصاف کی حکومت بن جانے کے بعد کافی سہولیات بھی مہیا کر رہا ہے ۔
نیب کی طرف سے ذوالفقار بخاری کے کیس میں انوکھی لچک پہلی بار دیکھنے کو ملی جب نیب نے 5 اکتوبر 2018 کو ذوالفقار بخاری کو ایک بار پاکستان چھوڑنے کی بھی اجازت دی ۔ قطع نظر اس کے کہ تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں اور شواہد میں ممکنہ طور پر رد و بدل کی جا سکتی ہیں ۔
ہمارے ذرائع کے مطابق جب سے نیب نے انکوئری شروع کر رکھی ہے ذوالفقار بخاری اور ان کا خاندان شواہد کو مسخ کر رہا ہے اور ذوالفقار بخاری نے اپنی دو برطانوی کمپنیوں دو آف شور کمپنیوں سے مستفعیٰ ہو چکے ہیں
کچھ تحقیقاتی ادارے سمجھتے ہیں جب نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہوں اور ایسے میں ایسے کاروبار سے اظہار لاتعلقی اصل میں شواہد کو مسخ کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔
ذوالفقار بخاری نے دو برطانوی کمپنیوں کے ڈائریکٹر کے عہدے سے 21 ستمبر 2018 کو مستفیٰ ہو ئے۔ جن میں مارٹن کیمپ ڈیزائن لمیٹڈ اور ایچ،ایم،پی ڈویلپمنٹ لمیٹڈ شامل ہیں یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیب کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے تھے ان کے خلاف تحقیقات کرتے ہوئے ۔
بیلا ٹریڈنگ جوکہ ذوالفقار بخاری کی کمپنی کے فیکٹر کے ساتھ منسلک تھی بند کی جا چکی ہے ان دونوں کمپنیوں کا ریکارڈ موزاک فونزکا فرم کے پاس تھا جس نے پانامہ پیپر جاری کئے تھے ۔
نیب نے اپنی تحقیقات میں ذوالفقار بخاری کی کمپنیوں کو ملین پاونڈز کی خفیہ ترسیلات زر کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے
کھیل اس وقت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوا جب ذوالفقار بخاری کی کمپنی کی پروفائل اور نواز شریف کی فلیگ شب کی پروفائل نا قابل یقین حد تک ایک دوسرے کی کاپی نکلیں ۔ فلیگ شب وہی کمپنی ہے جس پر نیب نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا ۔
برطانیہ میں آڈٹ کرنے والی فراہم نے اخبار کو بتایا کہ ذوالفقار بخاری کی تمام کمپنیاں سوائے ایک کے نقصان میں جا رہیں تھیں ۔ مگر پھر بھی پیسہ ذوالفقار بخاری کے پاس آ رہا تھا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے حسن نواز کی فلیگ شب خسارے میں جا رہی تھی مگر پھر بھی مختلف ذرائع سے پیسہ اس کے اکاونٹ میں منتقل ہو رہا تھا ۔
جب نیب نے ذوالفقار بخاری کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو وہ کم از کم نو کمپنیوں کے لندن میں ڈائریکٹر تھے ۔مذکورہ کمپنیاں ان کی مالکیت میں تھیں

Martin Kemp Design Limited; HPM Development (London) Limited; One London Marketing Limited; Overbridge Properties Limited; Saybuck Limited; TRIBUCK, Underbridge Properties Limited; Zab Developments Limited and Zab properties Limited
ایک کمپنی جس سے ذوالفقار بخاری نے ستمبر میں استعفیٰ دیا تھا مارٹن کم ڈائزین لمیٹڈ۔ 2012 میں اس کے اکاونٹ میں ملین آف پاونڈوز کی ٹرانزیکشن کی تفصیلات ملی ہیں ۔نیب انکوئری میں ذوالفقار بخاری ان ملین پاونڈ کی منتقلی کے بارے میں کوئی خاطر خواہ جواب پیش نہیں کر سکے ۔
دوسری کمپنی ایچ ،ایم ،پی ڈیلویلپمنٹ جس سے ذوالفقار بخاری ستمبر 2018 میں مستفیٰ ہوئے تھے اس کی ملین پاونڈز کی منتقلی بھی ابھی تک سوالیہ نشان ہے جس پر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آ سکا ۔
اس سب کے باوجود 5 اکتوبر 2018 کو نیب کی طرف سے ایک بار ملک چھوڑنے کی اجازت دینا حیران کن تھا کہ کوئی آسانی سے بیرون ملک جا کر ریکارڈ میں رد و بدل کر کے واپس آ جائے نیب کی طرف سے اجازت ہے ۔
اور ذوالفقار بخاری کے خلاف نیب کا روایہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم کا دوست ہونا اس ملک میں اپوزیشن لیڈر سے زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے ۔

Friends with benefits as the saying goes!
تحریر جہانزیب منہاس

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close