پاکستان

موجودہ حکومت نے نيب کو خودمختار ادارہ تسليم کيا،چئیرمین نیب

چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کسی دور میں بھی پسندیدہ ادارہ نہیں رہا، نیب ڈکٹیشن لیتا ہے اور نہ انتقامی کارروائی کرتا ہے۔ نیب کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔ پاکستان کے عوام اچھے اور برے کی تمیز کرنا جانتے ہیں،پروپیگنڈا ہوتا رہے، نیب نے اپنا کام جاری رکھنا ہے۔  

اسلام آباد میں انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن پر ایوان ِصدر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ہم منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں،موجودہ حکومت نے نیب کو خودمختار ادارہ تسلیم کیا،نیب کا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ رہا اور نہ ہوگا۔

چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب کا کسی سیاسی گروہ یا فرد سے کوئی تعلق نہیں،نیب کی وفاداری ریاست پاکستان کے ساتھ ہے،محدود وسائل میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ نیب کسی دور میں بھی پسندیدہ ادارہ نہیں رہا،نیب ڈکٹیشن لیتا ہے اور نہ انتقامی کارروائی کرتا ہے۔

انھوں نے حمکرانوں پر تنقید کرتےہوئے کہ کہ جو صاحبِ اقتدار رہے وہ بھول گئے یہ مغلیہ دور نہیں،ظلِ الہیٰ اور فرمان جاری کرنے والے دور ختم ہوچکے،لاکھوں کی جگہ اربوں کے خرچے پر سوال ہو تو جواب دینا چاہیے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے دو ٹوک کہا کہ جس نے کرپشن کی ہے اس کو حساب دینا ہوگا۔

انھوں نے شکوہ کیا کہ نیب کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔پاکستان کے عوام اچھے اور برے کی تمیز کرنا جانتے ہیں۔پروپیگنڈا ہوتا رہے، نیب نے اپنا کام جاری رکھنا ہے۔ چیئرمین نیب نے واضح کیا کہ بیوروکریٹس کے خلاف کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا جائے گا تاہم شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے سے بچا جائے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے،ادارے کام کررہے ہیں۔ نیب پر الزام لگا کر ہمدردیاں سمیٹنے کا وقت گزرگیا۔ انھوں نے بتایا کہ بیوروکریسی کی طرح بزنس کمیونٹی بھی خائف ہے،نیب ایسا قدم کیوں اٹھائے گا جس سے معیشت پر منفی اثر پڑے۔نیب کا ہر قدم پاکستان اور پاکستانیوں کی بہتری کیلئے ہے،نیب کیخلاف توانائیاں خرچ کرنے کے بجائے دفاع کیلئے استعمال کریں۔

انھوں نے کہا کہ نیب کے بارے میں رائے ریفرنس زدہ لوگوں سے نہ لی جائے،ریمانڈ لینے جاتے ہیں تب ہی نیب کا احتساب شروع ہوجاتا ہے،عدالتیں ریمانڈ دینے سے پہلے پوچھتی ہیں آپ نے کیا کیا؟۔

چئیرمین نیب نے بتایا کہ اس سال 3ارب64 کروڑ روپے بدعنوان عناصر سے ریکورکیے،یہاں ریلوے کے انجنوں کا پتہ نہیں، جہازوں کا پتہ نہیں،اگرنیب نے پوچھ لیا کہ جہاز کہاں گیا تو اس میں کیا برائی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close