انٹرنیشنل

ملائیشین خاتون اول نے تصویر کھنچواتےوقت وزیراعظم عمران خان کا ہاتھ کیوں پکڑا تھا؟

گذشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کے دوران ملائیشیا کی خاتون اول سیتی حسما محمد علی اُس وقت پاکستانی وزیراعظم کی مداح کے طور پر سامنے آئی تھیں جب انہوں نے فوٹو سیشن کے دوران عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘کیا میں آپ کا ہاتھ پکڑ سکتی ہوں؟’

اور اب سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو  گردش کر رہی ہے، جس میں ملائیشین خاتون اول نے وزیراعظم عمران خان اور روسی وزیراعظم ولادیمیر پیوٹن کا ہاتھ پکڑنے کے حوالے سے اپنے تاثرات شیئر کیے۔

گلوبل ڈاکٹرز ملائیشیا کی جانب سے تقسیمِ چیک کی تقریب کے دوران  خاتون اول سیتی حسما محمد علی نے وہ دن یاد کیا، جب انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا ہاتھ پکڑ کر تصویر کھنچوائی تھی۔

انہوں نے بتایا، ‘مہاتیر محمد نے ایک تصویری سیشن کا اہتمام کیا، آپ فوٹوگرافرز بھی وہاں موجود تھے، آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ اُس وقت وہ جانے والے تھے۔ لہذا ہم تصویر کھنچوانے کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے اُن (عمران خان) سے پوچھا کہ کیا میں آپ کا ہاتھ پکڑسکتی ہوں، انہوں نے جواب دیا، بالکل۔’

خاتون اول کے مطابق، ‘میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے یہ اس لیے کیا کیوں کہ وہ ایک معروف بیٹا ہے، جو ہمارے گھر آیا تھا۔ اس میں غلط کیا تھا؟ آپ لوگوں کو حسد کیوں محسوس ہوا؟’

روسی وزیراعظم ولادیمیر پیوٹن کا ہاتھ پکڑنے کے حوالے سے سیتی حسما نے بتایا کہ میری بہو نے آن لائن رپورٹس پڑھیں اور مجھے چھیڑتے ہوئے کہا کہ مجھے پیوٹن کے ساتھ فلرٹ کرتے دیکھ کر اسے ‘شرمندگی’ ہوئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کئی سال قبل پیوٹن کے دورے کا بھی تذکرہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘پیوٹن اُن رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو اُن 10 برسوں کے دوران کوالا لمپور میں ہمارے گھر آئے، جب ہم بالکل سائیڈ لائن پر تھے اور ہمیں تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا تھا، وہ ایئرپورٹ جاتے وقت ہمارے گھر آئے تھے’۔

ملائیشین خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے غلطی سے اپنے شوہر کے بجائے کسی اور شخص کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ سیتی حسما کے مطابق، ‘مجھے بہت شرمندگی ہوئی، میں نے اپنے شوہر مہاتیر محمد سے کہا کہ یہ اس وجہ سے ہوا کیونکہ آپ میرے برابر میں نہیں تھے’۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close