پاکستان

کیا قبضے کی زمین پر بننے والی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کا استفسار

کیا قبضے کی زمین پر بننے والی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے؟ مبینہ صنعتی اراضی پر مسجد اور مدرسے کی تعمیرات کے کیس میں جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال اٹھادیا۔

سپریم کورٹ نے نجی کمپنی کی درخواست پر مسجد اور مدرسے کی قانونی دستاویزات طلب کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قبضے کی جگہ پر مسجد بنانا اسلام کا مذاق اُڑانا ہے، کیا آپ لوگ مسجد نبویؐ میں توسیع کی مثال بھول گئے؟

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سائٹ میں صنعتی اراضی پر مسجد اور مدرسہ تعمیر کرنے والوں سے قانونی دستاویزات طلب کرلیں۔

درخواست نجی کمپنی نے دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کہ کمپنی نے دو ایکڑ سے زائد اراضی سائٹ ایسوسی ایشن سے خریدی تھی مگر اس پر پہلے زبردستی مسجد اور مدرسہ تعمیر کیا گیا اور اب قبریں بنانے کی آڑ میں غیرقانونی قبضے کو مزید طول دیا جارہا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صنعتی زمین پر غیرقانونی قبضہ ختم کرایا جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا قبضے کی زمین پر بنائی گئی مسجد میں نماز ہو سکتی ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے، قبضے کی جگہ پر تو نماز بھی قبول نہیں ہوتی؟ کیا آپ لوگ مسجد نبویؐ میں توسیع کی مثال بھول گئے؟

انہوں نے کہا کہ کوئی ایک مثال دیں کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں قبضہ کرکے مسجد بنائی گئی ہو۔

اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کسی کو مسجد بنانا ہے تو جائز طریقے سے بنائے، قبضہ کرکے مسجد بنانا مذہب اسلام کا مذاق اڑانا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close