پاکستان

سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں ساہیوال میں 4 افراد جاں بحق، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

ساہیوال: جی ٹی روڈ پر اڈا قادر کے قریب سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 4 افراد کی ہلاکت معمہ بن گئی جب کہ وزیراعظم کی جانب سے واقعے کا نوٹس لیے جانے کے بعد تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ‘ہفتے کی دوپہر 12 بجے کے قریب ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی، جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی، سی ٹی ڈی نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی فائرنگ کی، جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو دو خواتین سمیت 4 دہشت گرد ہلاک پائے گئے جبکہ 3 دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے’۔

عینی شاہدین کا بیان

لیکن عینی شاہدین کا کہناہے کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے تین بیگ بھی موجود تھے، جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد زندہ بچ جانے والے بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی، جن میں سے ایک بچہ فائرنگ سے معمولی زخمی ہوا، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

آئی جی پنجاب کو رپورٹ پیش

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ‘سی ٹی ڈی نے حساس ادارے کی جانب سے ملنے والی موثر اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم داعش سے منسلک 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے’۔

ترجمان کے مطابق ‘ہفتے کی دوپہر 12 بجے کے قریب ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی، جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی’۔

ترجمان کے مطابق ‘سی ٹی ڈی نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی فائرنگ کی، جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو دو خواتین سمیت 4 دہشت گرد ہلاک پائے گئے جبکہ 3 دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے’۔

آپریشن فیصل آباد کی کارروائی کا تسلسل

سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ‘یہ کارروائی فیصل آباد میں 16 جنوری کو ہونے والے آپریشن کا تسلسل ہے اور سی ٹی ڈی کی ٹیم ریڈ بک میں شامل دہشت گردوں شاہد جبار اور عبدالرحمان کا تعاقب کر رہی تھی’۔

رپورٹ کے مطابق ‘آج صبح معتبر ذرائع سے یہ اطلاع ملی کی وہ اسلحے اور دھماکا خیز مواد کے ساتھ ساہیوال کی جانب سفر کر رہے تھے، یہ دہشت گرد چیکنگ سے بچنے کے لیے خاندان کے ساتھ سفر کرتے تھے’۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ‘دہشت گردوں سے ہتھیار ڈالنے کو کہا گیا لیکن انہوں نے فائرنگ کردی، جس کے بعد دہشت گرد شاہد جبار، عبدالرحمان اور اس کا ایک ساتھی موٹرسائیکل پر سوار ہوگئے جبکہ سی ٹی ڈی ٹیم نے موقع سے خودکش جیکٹ، ہینڈ گرنیڈ اور رائفلز سمیت دیگر اسلحہ قبضے میں لے لیا’۔

ترجمان کے مطابق ‘ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت ذیشان کے نام سے ہوئی، جو کالعدم تنظیم داعش کا مقامی سرغنہ تھا،جبکہ عدیل فیصل آباد آپریشن میں ہلاک ہوا تھا’۔

سی ٹی ڈی کے مطابق ‘مارے گئے افراد پنجاب میں داعش کے سب سے خطرناک دہشت گردوں میں شامل تھے اور یہی دہشت گرد امریکی شہری وارن وائن اسٹائن اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا میں بھی ملوث تھے’۔

اس سے قبل ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کار میں اغوا کار سوار تھے جبکہ 3 بچوں کو بھی بازیاب کرالیا گیا۔

شادی میں شرکت کیلئے جارہے تھے، زخمی بچے کا بیان

دوسری جانب فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچے عمر خلیل نے اسپتال میں میڈیا کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بورے والا گاؤں جارہے تھے۔

لاہور: ساہیوال مقابلے میں ہلاک خلیل اور اسکی بیوی کی تصویر

بچے کے مطابق گاڑی میں اس کے اور اس کی 2 چھوٹی بہنوں کے علاوہ والد خلیل، والدہ نبیلہ، بڑی بہن اریبہ اور والد کا دوست مولوی سوار تھے، جو واقعے میں جاں بحق ہوگئے۔

بچے نے بتایا کہ اس کے والد نے پولیس والوں سے کہا کہ پیسے لے لو، ہمیں معاف کردو لیکن انہوں نے فائرنگ کردی۔

عمر نے مزید بتایا کہ فائرنگ سے اس کے والدین، بہن اور والد کے دوست جاں بحق ہوگئے، جبکہ انہیں پولیس پہلے پیٹرول پمپ چھوڑ آئی اور پھر اسپتال منتقل کردیا۔

وزیراعظم عمران خان نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی

مشکوک پولیس مقابلے کی خبر میڈیا پر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کیا اور ساہیوال واقعے پر رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ واقعےکی مفصل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں،تاکہ حقائق واضح ہوں۔

وزیراعظم کی ہدایت کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے ساہیوال واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے افسر بھی شامل

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ساہیوال واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی جس کی سربراہی ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کریں گے۔

ترجمان پولیس نے بتایا کہ جےآئی ٹی میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کےافسران بھی شامل ہوں گے جب کہ جے آئی ٹی تین روز میں تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔

آئی جی پنجاب نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی

اس سے قبل انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لے کر آر پی او ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کی تھی۔

ترجمان پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کے مطابق اگر مارےگئے افراد پُر امن شہری تھے تو فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر واقعے میں کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔

یہ لوگ نمازی پرہیز گار تھے:محلے دار

ساہیوال واقعےمیں سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے مارے جانے والے افراد کے محلے داروں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مقتولین کے اہلخانہ کو تقریباً 30 سال سے جانتے ہیں، یہ لوگ نمازی پرہیزگار تھے، ان کےوالد حیات نہیں اور والدہ بیمار ہیں۔

محلے داروں کے مطابق ذیشان کاایک بھائی احتشام ڈولفن پولیس کااہلکارہے۔

واقعے نے پولیس کی اہلیت پر سوالات اٹھادیے

پنجاب کے محکمہ انسداد دہشتگردی کے اہلکاروں نے ساہیوال واقعے میں مارے جانے والوں کو گولیاں ان کے چھوٹے بچوں کے سامنے ماریں۔

اس واقعے نے پولیس کی کارروائی پر کئی سوال اٹھا دیے ۔ اگر گاڑی میں دہشت گرد تھا بھی تو ساتھ بیٹھنے والے بچوں اور عورتوں کی جانوں کا خطرہ کیوں لیا گیا؟

کیا کارروائی کرنے والوں کے پاس مطلوب افراد کو ہلاک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا؟ عینی شاہدین کہتے ہیں کہ واقعے میں فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا تو پھر نہتے افراد کو پکڑنے کا کیا یہی طریقہ ہے؟

کیا گاڑی کے ٹائر پر فائر کر کے انہیں روکا اور پھر گرفتار نہیں کیا جا سکتا تھا ؟ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں سوار تین بچوں کو اللہ نے بچالیا  ورنہ پولیس اہل کاروں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

اہلِ علاقہ کا فیروزپور روڈ پر احتجاج

علاوہ ازیں ساہیوال واقعے میں مارے جانے والے افراد کے اہلِ علاقہ نے واقعے کے خلاف فیروزپور روڈ پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کردی جس کے باعث میٹرو بس سروس معطل ہوگئی۔

اہلِ علاقہ نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فوری مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ جب تک ملزمان کو سزا نہیں ملتی احتجاج جاری رہے گا۔

اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی رمضان صدیق بھٹی مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچے اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

مظاہرین کے ایم پی  اے رمضان صدیق بھٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔

رمضان بھٹی نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہوئی تو وہ بھی مظاہرین کے ساتھ دھرنا دیں گے۔

احتجاج ختم ہونے کےبعد فیروزپورروڈ پر ٹریفک بحال ہوگئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close